ابنا: گزشتہ ہفتے کے آخر میں کابل میں تین روزہ کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گيا جس کی اختتامی تقریب صدر ہاؤس میں منعقد ہوئی ۔ اس تقریب میں تقریر کرتے ہوئے حامد کرزئي نے کہا کہ ہر طاقتور ملک کمزور ملک میں اپنی پٹھو حکومت قائم کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔
افغان صدر نے مزید کہا کہ اگر ہم افغانوں کے پاس طاقت ہوتی تو ہم بھی امریکہ میں اپنی پسند کے فرد کو وہاں کا صدر بناتے۔ حامد کرزئي نے افغانستان کے ساتھ امریکہ اور یورپ کے رویۓ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ ممالک افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کرتے ہیں۔ اس تقریب کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا گيا جس میں افغانستان میں امریکہ کے فوجی اڈوں کی مخالفت کا اعلان کیا گيا۔
دریں اثناء افغانستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کر کے طالبان کے چھ جنگجوؤں کے مارے جانےکی تصدیق کر دی ہے۔ ارنا کی رپورٹ کےمطابق افغان وزارت داخلہ نے جمعے کے دن کابل ، ننگر ہار ، زابل ، قندھار ، ہلمند ، میدان وردک ، خوست اور فراہ کے علاقوں میں افغان فوجیوں اور اس ملک میں موجود غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ طالبان کے جنگجوؤں کی جھڑپوں میں چھ طالبان ہلاک اور بائیس زخمی ہوگۓ ہیں۔
....... /169